حمل کی تکالیف سے بچنے متبادل بھارتی انڈسٹری عروج پر

   بھارت میں سماجی زندگی خوشحال بنانے کے لئے کوکھ کرائے پر دینے پر مجبور ہیں۔ سروگیسی کے ذریعے وہ غیروں کے لئے زچگی کی تکلیف برداشت کرتی ہیں۔ لیکن ’’سروگیسی ‘‘کے بدلے میں ملنے والی رقم سے ان کی زندگی کافی حد تک بدل جاتی ہے۔ بھارت میں کرائے کی کوکھ یعنی سروگیسی کی مارکیٹ ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔سیروگیٹ مائیں الگ گھروں (ہوسٹل) میں رہتی ہیں۔جسے ’’بچہ فیکٹری ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ کرائے کی کوکھ سے بے اولاد لوگوں کو بچے تو مل جاتے ہیں ، لیکن ان خواتین کی حالت قابِل رحم ہوتی ہے جو پیسے کے لئے دوسرے کا بچہ اپنی کوکھ میں رکھتی ہیں۔ گجرات کے ایک چھوٹے سے شہر ’’آنند‘‘ میں ڈاکٹر نین پٹیل کا اسپتال ہے۔اسپتال کے پاس ہی ایک ہوسٹل ہے۔
 یہاں تقریباً ایک سو سیروگیٹ رہتی ہیں اور ہر کمرے میں دس ماؤں کو رکھا جاتا ہے۔ 28 سالہ بسنتی کوکھ کرائے پر دینے کے بعد نو ماہ اسی اسپتال میں رہے گی۔ بسنتی کے پیٹ میں ایک جاپانی جوڑے کا بچہ پل رہا ہے۔ اس کے لئے انہیں تقریباً پانچ لاکھ روپے ملیں گے۔ یہ رقم ان کے نئے گھر کے لئے کافی ہوگی۔ اور اپنے دونوں بچوں کو انگریزی اسکول میں پڑھانے کا خواب بھی پورا ہو جائے گا۔ بسنتی کہتی ہے کہ ہمارے ملک میں خاندانی رشتے بہت مضبوط ہوتے ہیں ۔آپ اپنے بچوں کے لئے کچھ بھی کرگزرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ہوسٹل کی نرسیں انہیں وقت پر کھانا ،وٹامن اور دوائیں دیتی رہتی ہیں۔ اور آرام کرتے رہنے کا مشورہ دیتی ہیں ۔ یہاں انہیں کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوتی ہے۔
سرو گیٹ ماؤں کے لئے اسپتال میں رہنا لازمی ہوتا ہے، ہفتے میں صرف اتوار کے روز شوہر اور بچوں کو ہاسٹل میں ماؤں سے ملنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ لیکن ماؤں کو بچے کی پیدائش تک گھر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ایک عورت زیادہ سے زیادہ تین مرتبہ کوکھ کرائے پر دے سکتی ہے۔  اگر سرو گیٹ مائیں جڑواں بچوں کو جنم دیتی ہیں ،تو انہیں اس کے تقریباً سوا چھ لاکھ روپے ملتے ہیں۔ سروگیٹ مائیں بچے کو جنم دینے کے بعد  ان ماؤں کو بچے کی دیکھ بھال کی نوکری بھی دیتے ہیں۔ بھارتی ریاست گجرات میں ڈاکٹر نین پٹیل کا اسپتال بھارت کا سب سے بڑا اسپتال بن گیا ہے۔ جہاں سیکڑوں عورتوں کو فی کس 5000پاونڈ مغربی جوڑوں کے بچے پیدا کرنے پر دئیے جاتے ہیں ۔ جبکہ وہ مغربی جوڑوں سے 17250پاونڈ وصول کرتے ہیں۔اس اسپتال میں سیکڑوں کی تعداد میں بھارت کی غریب عورتیں اپنی غربت مٹانے کے لئے اپنی کوکھ کرائے پر دینے کے لئے مجبور ہیں۔ دنیا کی اپنی نوعیت کی یہ پہلی بےبی فیکٹری بھارت میں زیرتعمیر ہے۔ یہاں مغربی جوڑے حاملہ ہونے یا پیٹ میں بچے کو لیے پھرنے کی زحمت گوارا کرنے کو تیار نہیں ہوتے ۔ ایسے متوقع والدین میں برطانوی جوڑوں سمیت دنیا بھر کے جوڑے شامل ہوں گے

No comments:

Post a Comment